UrduGEC: Corpora for Urdu Grammatical Error Correction
Collection
Official datasets for Urdu GEC (ACL Findings). Includes 1.2M synthetic training pairs and an expert-vetted gold test set derived from student works. • 2 items • Updated
incorrect_sentence stringlengths 11 255 | correct_sentence stringlengths 10 224 | errant_style_edit_tags stringlengths 3 240 |
|---|---|---|
کیا مسلمانوں کی عبادت میں کوئی کمی رہ گئی ہے یہ پھر اللہ کی عنایت کا انداز بدل گیا ہے۔ | کیا مسلمانوں کی عبادت میں کوئی کمی رہ گئی ہے یا پھر اللہ کی عنایت کا انداز بدل گیا ہے۔ | R:PRON |
تو شکایت اس بات یہ ہے کہ پروردگار مسلمان تیری عبادت کرتے، ہر دم یاد کرتے ہیں لیکن نوازش انگریز کو ہو رہی ہے۔ | تو شکایت اس بات کی ہے کہ پروردگار مسلمان تیری عبادت کرتے، ہر دم یاد کرتے ہیں لیکن نوازش انگریز کو ہو رہی ہے۔ | R:PRON |
انگریز خدا کے نافرمانی کرتے ہیں۔ | انگریز خدا کی نافرمانی کرتے ہیں۔ | R:ADP:INFL |
دنیا میں دوسرے لوگوں کو، کیسے کیسے لوگوں کو دولت ملا ہے۔ | دنیا میں دوسرے لوگوں کو، کیسے کیسے لوگوں کو دولت ملی ہے۔ | R:VERB:INFL |
یہ شکایت کا بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں کہتے ہیں انہوں نے خدا کے نام میں اتنا کام کیا۔ | یہ شکایت کا بیان کرتے ہیں کہ مسلمان کہتے ہیں انہوں نے خدا کے نام میں اتنا کام کیا۔ | R:NOUN:INFL |
مسلمان پرانے زمانے میں اتنے طاقت ور، پوری سلطنت ہوتی تھیں۔ | مسلمان پرانے زمانے میں اتنے طاقت ور، پوری سلطنت ہوتے تھے۔ | R:VERB:INFL R:AUX:INFL |
اب ان کے نام پر ہر لوگ ہنستے ہیں۔ | اب ان کے نام پر سب لوگ ہنستے ہیں۔ | R:DET |
اگر دوسرے لوگوں کو اتنی چیزیں مل رہی ہیں تو مسلمانوں کا بھی حق پڑتا ہے۔ | اگر دوسرے لوگوں کو اتنی چیزیں مل رہی ہیں تو مسلمانوں کا بھی حق بنتا ہے۔ | R:VERB |
علامہ اقبال کی نظم "شکوہ" محض اللہ سے شکایت کرتے ہیں۔ | علامہ اقبال نظم "شکوہ" میں محض اللہ سے شکایت کرتے ہیں۔ | M:ADP U:ADP |
انھیں بے بسی اور ذلت کا سامنا کیوں کرنا پڑی۔ | انھیں بے بسی اور ذلت کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔ | R:AUX:INFL |
وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں اپنی مایوسی سے نکل کر دوبارہ دنیا میں اپنا مقام حاصل کریں۔ | وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی مایوسی سے نکل کر دوبارہ دنیا میں اپنا مقام حاصل کریں۔ | R:NOUN:INFL |
علامہ اقبال نے یہ نظم ۱۹۱۱ میں اس وقت لکھی جب ہر سفر کے مسلمانوں سیاسی، سماجی اور معاشی زوال کا شکار تھے۔ | علامہ اقبال نے یہ نظم ۱۹۱۱ میں اس وقت لکھی جب ہر سفر کے مسلمان سیاسی، سماجی اور معاشی زوال کا شکار تھے۔ | R:NOUN:INFL |
ناانصافی ان کے معاشروں میں رائج ہے جو کہ ان کے زوال کے متعدد سبب میں سے ایک سبب ہے۔ | ناانصافی ان کے معاشروں میں رائج ہے جو کہ ان کے زوال کے متعدد اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ | R:NOUN |
اقبال جیسے شاعر پر بھروسہ لکھا جا سکتا تھا۔ | اقبال جیسے شاعر پر بھروسہ کیا جا سکتا تھا۔ | R:VERB |
اقبال عاشق کی طرح اپنے محبوب (اللہ) سے شکایت کر رہے ہے۔ | اقبال عاشق کی طرح اپنے محبوب (اللہ) سے شکایت کر رہا ہے۔ | R:AUX:INFL |
اقبال چاہتے ہیں کے اللہ ان کی مدد کر اور مسلمانوں دوبارہ ان کے عروج پر پہنچا دے۔ | اقبال چاہتے ہیں کے اللہ ان کی مدد کر اور مسلمانوں کو دوبارہ ان کے عروج پر پہنچا دے۔ | U:ADP |
ہم اپنے دل کی بات اپنی شکایت صرف اس ہی کہ ساتھ کرتے ہیں جس پر ہمیں مان ہو۔ | ہم اپنے دل کی بات، اپنی شکایت صرف اس ہی کے ساتھ کرتے ہیں جس پر ہمیں ایمان ہو۔ | U:PUNCT R:PART R:NOUN |
اللہ کی ذات ایسی ہے جو ہمیشہ ہم سے قریب اور ہمارے دل کی بات سننے کے لئے ہمارے ساتھ رہتی۔ | اللہ کی ذات ایسی ہے جو ہمیشہ ہم سے قریب اور ہمارے دل کی بات سننے کے لیے ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ | R:ADP U:AUX |
مسلمان دنیا میں خدا واحد کے ماننے والے واحد لوگ ہے۔ | مسلمان دنیا میں خدا واحد کے ماننے والے واحد لوگ ہیں۔ | R:AUX:INFL |
میں یہ بھی سمجھتا ہوں کے اصل میں کہ شکوہ ملسلمانوں سے اقبال کر رہے ہیں منفرد انداذ کے ہے۔ | میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اصل میں شکوہ ملسلمانوں سے اقبال کر رہے ہیں منفرد انداذ میں۔ | R:ADP M:PART R:ADP M:AUX |
ہر مرحلہ میں اللہ کے نام پر شمشیر لیے کھڑے مومن ہوتے ہیں۔ | ہر مرحلے میں اللہ کے نام پر شمشیر لیے کھڑے مومن ہوتے ہیں۔ | R:NOUN:INFL |
اقبال نے ان کی بےبسی دیکھ کر یہ شکوہ لکھی۔ | اقبال نے ان کی بےبسی دیکھ کر یہ "شکوہ" لکھی۔ | U:PUNCT U:PUNCT |
اس نظم میں اقبال اپنا مجبور حال بیان کررہے ہے۔ | اس نظم میں اقبال اپنی مجبوری کا حال بیان کررہا ہے۔ | R:PRON:INFL R:ADJ U:ADP R:VERB:INFL |
اسے کی ذات سب سے بلند ہے۔ | اس کی ذات سب سے بلند ہے۔ | R:PRON:INFL |
سب سے پہلے اقبال عرض کرنے ہیں کے مسلمانوں کا حوصلہ ختم ہو گیا ہے۔ | سب سے پہلے اقبال عرض کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا حوصلہ ختم ہو گیا ہے۔ | R:VERB:INFL R:ADP |
ہم پھول نہیں ہیں کے اپنے ساتھ ناانصافی ہونے دے چپ چاپ۔ | ہم پھول نہیں ہیں کہ اپنے ساتھ ناانصافی ہونے دٰیں چپ چاپ۔ | R:ADP R:VERB:INFL R:SPELL |
اقبال پوچھتے ہیں کے مسلمانوں کی محنت اور قربانیوں کے باوجود وہ زوال کا شکار کیوں ہیں۔ | اقبال پوچھتے ہیں کہ مسلمانوں کی محنت اور قربانیوں کے باوجود وہ زوال کا شکار کیوں ہیں۔ | R:ADP |
جیسے کے پھول تو ہمیشہ تھے لیکن ہوا کے بغیر خوشبو سب جگہ نہیں پہنچ سکتی۔ | جیسے کہ پھول تو ہمیشہ تھے لیکن ہوا کے بغیر خوشبو سب جگہ نہیں پہنچ سکتی۔ | R:ADP |
یہ شکوہ کرنے کا مقصد تھا کے مسلمانوں کی آنکھوں سے پٹی ہٹے اور غلط کام کرنا چھوڑے۔ | یہ شکوہ کرنے کا مقصد تھا کہ مسلمانوں کی آنکھوں سے پٹی ہٹے اور غلط کام کرنا چھوڑیں۔ | R:ADP R:VERB:INFL |
ابھی مسلمانوں کے پاس کوئی حق نہیں ہے خدا کو اپنے ذوال کا ذمہ دار بنائے۔ | ابھی مسلمانوں کے پاس کوئی حق نہیں ہے خدا کو اپنے ذوال کا ذمہ دار بنانے کا۔ | R:VERB:INFL U:ADP |
وہ بھی تو گنہگار رکھتے ہیں اپنے لوگوں میں جیسے کے ہم۔ | وہ بھی تو گنہگار رکھتے ہیں اپنے لوگوں میں جیسے کہ ہم۔ | R:ADP R:AUX U:PUNCT |
اقبال نے اس نظم کے ذریعے مسلمانوں کی زوال اور ان کی عظمت کم ہونے کی وجہ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ | اقبال نے اس نظم کے ذریعے مسلمانوں کے زوال اور ان کی عظمت کم ہونے کی وجہ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ | R:ADP:INFL |
ان کی موجودہ حالات پر شکوہ کیا ہے۔ | ان کے موجودہ حالات پر شکوہ کیا ہے۔ | R:ADP:INFL |
الزام اسلیے بھی درست نہیں تھا کیوں کے پوری نظم جواب شکوہ میں تھی۔ | الزام اسلیے بھی درست نہیں تھا کیونکہ پوری نظم جواب شکوہ میں تھی۔ | R:SCONJ M:ADP |
مسلمان امت کے آنے سے پہلے کوئی ﷲکا ذکر تک نہیں کرتا تھا نا انھیں یاد کرتا تھا۔ | مسلمان امت کے آنے سے پہلے کوئی ﷲکا ذکر تک نہیں کرتا تھا نہ انھیں یاد کرتا تھا۔ | R:SCONJ |
دوسری جانب کچی آبادیوں اور بستیوں میں رہنے والے پست ماندہ طبقے کے افراد اپنی جگہوں میں تمام زندگی ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ | دوسری جانب کچی آبادیوں اور بستیوں میں رہنے والے پس ماندہ طبقے کے افراد اپنی جگہوں میں تمام زندگی ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ | R:ADJ |
السلام و علیکم! | السلام علیکم! | M:CCONJ |
آپ نے اپنے وقت میں اپنے تجربات اور مشاہدات پر مبنی لکھا تھا۔ | آپ نے اپنے وقت میں اپنے تجربات اور مشاہدات پر لکھا تھا۔ | M:ADJ |
غیر منصوبہ بندی نے شہر کی ماحولیاتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ | غیر منصوبہ بندی نے شہر کے ماحولیاتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ | R:ADP:INFL |
آپ کے وقت کے خطوط اور ملاقاتیں جو رشتوں کو زندہ رکھتی تھیں، اب ڈیجیٹل رابطوں نے بدل دی ہیں۔ | آپ کے وقت کے خطوط اور ملاقاتیں جو رشتوں کو زندہ رکھتی تھیں، اب ڈیجیٹل رابطوں نے بدل دیے ہیں۔ | R:VERB:INFL |
اگر آپ آئیے گے تو اس کی جدوجہد اور ترقی کی داستانیں آپ کو حیران کردیں گی۔ | اگر آپ آئیں گے تو اس کی جدوجہد اور ترقی کی داستانیں آپ کو حیران کردیں گی۔ | R:VERB:INFL |
اسلام علیکم! | السلام علیکم! | R:PROPN |
میں نے تمہارا خط پڑھا تو سوچا کے تمہیں لکھ کے بتاؤں کے اب کراچی کتنا بدل گیا ہے۔ | میں نے تمہارا خط پڑھا تو سوچا کہ تمہیں لکھ کے بتاؤں کہ اب کراچی کتنا بدل گیا ہے۔ | R:ADP R:ADP |
اب ہم دوسرے ملک تو کیا، بلکہ اپنے شہر لاہور اور اسلاماباد سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ | اب ہم دوسرے ممالک تو کیا، بلکہ اپنے ہی شہروں، جیسے کہ لاہور اور اسلام آباد، سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ | R:NOUN U:PART R:NOUN:INFL U:PUNCT U:PRON U:PART U:PUNCT R:SPELL |
اب تو عوام کو فوج نہ پسند ہے۔ | اب تو عوام کو فوج ناپسند ہے۔ | M:PART R:ADJ |
اب کوئی بھی مہاجروں کی پاکستان سے وفاداری پر شق نہیں کرتا۔ | اب کوئی بھی مہاجروں کی پاکستان سے وفاداری پر شک نہیں کرتا۔ | R:NOUN |
وہ کسی قانوں کا لہاز نہیں کرتے۔ | وہ کسی قانوں کا لحاظ نہیں کرتے۔ | R:SPELL R:SPELL |
یہ طبقہ گھومنے باہر جاتا ہے، اب لاکھوں اور کڑوڑوں کے کپڑے پہنتا ہے اور اپنا سارا پیسا بیروں ملک بینک میں رکھتا ہے۔ | یہ طبقہ گھومنے باہر جاتا ہے، اب لاکھوں اور کروڑوں کے کپڑے پہنتا ہے اور اپنا سارا پیسا بیروں ملک بینک میں رکھتا ہے۔ | R:NOUN |
آم آدمی کو کوئی سہولت نہیں دیتے۔ | عام آدمی کو کوئی سہولت نہیں دیتے۔ | R:NOUN |
جو پارک، لائیبریری جیسی جگہیں تھی وہاں پر قبضہ کر کے گھر بنا دیے گئے۔ | جو پارک، لائیبریری جیسی جگہیں تھیں وہاں پر قبضہ کر کے گھر بنا دیے گئے۔ | R:AUX:INFL |
آم آدمی کیلیے کوئی سکون کی جگہ نہیں چھوڑی۔ | عام آدمی کیلیے کوئی سکون کی جگہ نہیں چھوڑی۔ | R:NOUN |
عوام میں فرسٹریشن پیدا چکی ہے جوکے تمہارے خط کے مطابق تب بھی تھی۔ | عوام میں فرسٹریشن پیدا چکی ہے جوکہ تمہارے خط کے مطابق تب بھی تھی۔ | R:PROPN |
رشوت خوری اور بے ایمانی آم ہے۔ | رشوت خوری اور بے ایمانی عام ہے۔ | R:NOUN |
اس سے نظر آتا ہے کہ اتنی عمر گزرنے کے باوجود ہماری عوام کا ذمیر نہیں بدلا۔ | اس سے نظر آتا ہے کہ اتنی عمر گزرنے کے باوجود ہماری عوام کا زمیر نہیں جاگا۔ | R:VERB R:SPELL R:SPELL |
سب ابھی تک غلط کاموں میں مسروف ہیں۔ | سب ابھی تک غلط کاموں میں مصروف ہیں۔ | R:SPELL |
اگر کوئی اپنے خیالات کا اظہار کردے، تو اس کو گھر سے نہ معلوم افراد اٹھا لیتے ہیں۔ | اگر کوئی اپنے خیالات کا اظہار کردے، تو اس کو گھر سے نامعلوم افراد اٹھا لیتے ہیں۔ | M:PART R:ADJ |
پوری کوشش کرتے ہیں کہ اچھی فلمیں، موسیقی اور آرٹ پے پابندی لگا دی جائے۔ | پوری کوشش کرتے ہیں کہ اچھی فلمیں، موسیقی اور آرٹ پر پابندی لگا دی جائے۔ | R:ADP |
میرے دوست یہ تھی کچھ باتیں جو کہ میں نے بتانا ضروری سمجھی۔ | میرے دوست یہ تھی کچھ باتیں جو کہ میں نے بتانا ضروری سمجھیں۔ | R:VERB:INFL |
ذیادہ تر برائیاں جو اس ذمانے میں تھی ابھی تک نظر آتی ہے۔ | زیادہ تر برائیاں جو اس زمانے میں تھیں ابھی تک نظر آتیں ہیں۔ | R:AUX:INFL R:VERB:INFL R:AUX:INFL R:SPELL R:SPELL |
حکمران سرف اپنا فائدہ سوچتے ہیں۔ | حکمران صرف اپنا فائدہ سوچتے ہیں۔ | R:NOUN |
تمہارے جواب کا منتظر ہوں گا۔ | تمہارے جواب کا منتظر رہوں گا۔ | R:AUX |
کمال صاحب آپ کے 1947 کے بعد کا نقشہ آپ نے بڑہ دل کشی سے کھینچہ تھا۔ | کمال صاحب آپ نے 1947 کے بعد کا نقشہ بڑے دل کشی سے کھینچا تھا۔ | R:ADP M:PRON M:ADP R:SPELL R:SPELL |
واقعہ دل خوش ہو گیا۔ | واقعی دل خوش ہو گیا۔ | R:NOUN |
کب صبح سے شام ہو جائے پتہ ہی نہیں چلتا۔ | کب صبح سے شام ہو جائے پتا ہی نہیں چلتا۔ | R:NOUN |
بندہ سواری پر بیٹھ کر کہی جائے۔ | آدمی سواری پر بیٹھ کر کہیں جائے۔ | R:NOUN R:VERB |
آپ گھوڑے پر سوار ہو کر پہنچے تو زیادہ جلدی پہنچ جائے۔ | آپ گھوڑے پر سوار ہو کر پہنچیں تو زیادہ جلدی پہنچ جائیں۔ | R:VERB:INFL R:AUX:INFL |
کہی نہ کہی وہ اپنی فرسٹریشن کا اظہار کرتے ہیں۔ | کہیں نہ کہیں وہ اپنی فرسٹریشن کا اظہار کرتے ہیں۔ | R:VERB R:VERB |
سدر اور بولٹن مارکٹ کے ہزاوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ | سدر اور بولٹن مارکٹ کے ہزاروں کا بھی ذکر کیا ہے۔ | R:SPELL |
فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں کہ راستے تنگ ہو چکے ہیں۔ | فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں کے راستے تنگ ہو چکے ہیں۔ | R:PART |
بندہ لطف اندوز ہو جائے۔ | آدمی لطف اندوز ہو جائے۔ | R:NOUN |
کراچی ضرور پے چیدہ ہو گیا ہے۔ | کراچی ضرور پیچیدہ ہو گیا ہے۔ | M:NOUN R:ADJ |
آپ کے جو خط اپنے رشتہ داروں کے نام لکھا۔ | آپ نے جو خط اپنے رشتہ داروں کے نام لکھا۔ | R:ADP |
امید ہے یہ خط آپ کو یہ خط بہترین صحت اور خوشی میں پائے گا۔ | امید ہے آپ کو یہ خط بہترین صحت اور خوشی میں پائے گا۔ | M:DET M:NOUN |
آپ دیکھیں گے کے اس شہر کے بہت سے پہلو وہی ہیں جو اآپ نے بیان کیے تھے۔ | آپ دیکھیں گے کہ اس شہر کے بہت سے پہلو وہی ہیں جو اآپ نے بیان کیے تھے۔ | R:ADP |
اس شہر کی نصلی تنوع آج بھی ویسی ہی ہے جیسی آپ نے بیان کی تھی۔ | اس شہر کا نسلی تنوع آج بھی ویسا ہی ہے جیسا آپ نے بیان کیا تھا۔ | R:ADP:INFL R:NOUN R:PRON:INFL R:VERB:INFL R:AUX:INFL R:SPELL |
نسلی سیاسی جماعتیں مقامی حکومت پر اثر انداذ ہو رہی ہیں جو ان کشیدگیوں کو مذید بدتر کر رہیں ہے۔ | نسلی سیاسی جماعتیں مقامی حکومت پر اثر انداز ہو رہی ہیں جو ان کشیدگیوں کو مزید بدتر کر رہیں ہیں۔ | R:AUX:INFL R:SPELL R:SPELL |
اب نئے شہری علاقوں میں پہل چکے ہیں۔ | اب نئے شہری علاقوں میں پھیل چکے ہیں۔ | R:VERB |
یہ شہر آج بھی وہی چیلنج کرتا ہے اور ساتھ حوصلہ بھی دیتا ہے، جیسا کے اس نے ہمیشہ کیا ہے۔ | یہ شہر آج بھی وہی چیلنج کرتا ہے اور ساتھ حوصلہ بھی دیتا ہے، جیسا اس نے ہمیشہ دیا ہے۔ | M:ADP R:VERB |
میں امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوگے۔ | میں امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔ | U:AUX R:VERB |
آپ نے کچھ کچی بستیوں کا ذکر کیا۔ | آپ نے کچھ کچی آبادیوں کا ذکر کیا۔ | R:NOUN |
شہری اس دیشت گردی سے پریشان ہیں۔ | شہری اس دہشت گردی سے پریشان ہیں۔ | R:NOUN |
اس کے علاوہ آپ کے کراچی کے انٹلکچلز کے بارے میں مشاہدات تھے وہ کچھ حد تک بہتر ہوئے ہیں۔ | اس کے علاوہ آپ کے کراچی کے دانشور کے بارے میں مشاہدات تھے وہ کچھ حد تک بہتر ہوئے ہیں۔ | R:NOUN |
شہر کے بنیادی مسائل جیسے غریبی وغیرہ حل نہیں ہوتے۔ | شہر کے بنیادی مثائل جیسے غربت وغیرہ حل نہیں ہوتے۔ | R:NOUN R:SPELL |
وہ پہلے سے زیادہ باخبر ہیں معاشرے کے مثائل کے بارے میں۔ | وہ پہلے سے زیادہ باخبر ہیں معاشرے کے مسائل کے بارے میں۔ | R:SPELL |
آپ کا 1954 کا خط پڑھا اور بہت خوش ہوئی ہوتی کے آپ نے کراچی کی حالت کے بارے میں دلچسپی ظاہر کی۔ | آپ کا 1954 کا خط پڑھا اور بہت خوش ہوئی کہ آپ نے کراچی کی حالت کے بارے میں دلچسپی ظاہر کی۔ | M:AUX R:ADP |
خاص طور پر قائد عظم کے مینار کے پاس جہاں لوگ زندگی کے بنیادی وصائل جیسے پانی اور بجلی سے مرحوم ہیں۔ | خاص طور پر قائد اعظم کے مزار کے پاس جہاں لوگ زندگی کے بنیادی وصائل جیسے پانی اور بجلی سے محروم ہیں۔ | R:NOUN R:NOUN R:ADJ |
آپ نے اپنے خط میں پی سی ایچ اس کا ذکر کیا تھا جس کا آج مقام بلکل گر چکا ہے۔ | آپ نے اپنے خط میں پی سی ایچ اس کا ذکر کیا تھا جس کا آج مقام بالکل گر چکا ہے۔ | R:ADV |
لوگ اگر کسی کام کو سفارش کے ذریع نہیں کرسکتے تو وہ اس کام کو کرنے کی کوشش بھی نہیں کریں گے۔ | لوگ اگر کسی کام کو سفارش کے ذریعے نہیں کرسکتے تو وہ اس کام کو کرنے کی کوشش بھی نہیں کریں گے۔ | R:NOUN |
لیکن ایک اچھا فرق دکھنے کو ملا ہے وہ ہے عورتوں کی ترقی کے لئے آج آواز اٹھائی جارہی ہے۔ | لیکن ایک اچھا فرق دیکھنے کو ملا ہے، وہ یہ ہے کہ عورتوں کی ترقی کے لٓیے آج آواز اٹھائی جارہی ہے۔ | R:VERB U:PUNCT U:PRON U:SCONJ R:ADP R:SPELL |
آپ کے وقت میں زیادہ ترعورتیں گھروں تک محدود تھی۔ | آپ کے وقت میں زیادہ ترعورتیں گھروں تک محدود تھیں۔ | R:AUX:INFL |
محترم کمال صاحب کراچی ایک ایسی جگہ ہے جہاں زندگی کی سنجیدگیاں اور مثائل سے بھری ہوتی ہیں۔ | محترم کمال صاحب، کراچی ایک ایسی جگہ ہے جہاں زندگی کی سنجیدگیاں اور مسائل سے بھری ہوتی ہیں۔ | U:PUNCT R:SPELL |
سچ تو یہ ہے کے کراچی کے لوگ ہر کسی کیلیے نکلتے ہیں چاہے وہ سیاسی جدوجہد ہو یا کوئی اور لیکن کراچی کے لوگوں کے لیے کوئی یہ نہیں سوچتا۔ | سچ تو یہ ہے کہ کراچی کے لوگ ہر کسی کیلیے نکلتے ہیں چاہے وہ سیاسی جدوجہد ہو یا کوئی اور لیکن کراچی کے لوگوں کے لیے کوئی یہ نہیں سوچتا۔ | R:ADP |
مجھے یہ امید ہے کے جب سیاسی رہنما کراچی سے گزریں تو اس شہر میں پہلی ہوئی بدقسمتی کو دیکھیں۔ | مجھے یہ امید ہے کے جب سیاسی رہنما کراچی سے گزریں تو اس شہر میں پھیلی ہوئی بدقسمتی کو دیکھیں۔ | R:ADJ |
مجھے امید ہے کہ وہ ساسی رہنما اس عام آدمی کو دیکھیں جس کا صبر کا پیمانا ختم ہو گا ہے۔ | مجھے امید ہے کہ وہ ساسی رہنما اس عام آدمی کو دیکھیں جس کا صبر کا پیمانا ختم ہو گیا ہے۔ | R:AUX |
مجھے امید ہے کے اب کراچی کو ابٹآرے طور پر نہیں دیکھا جائے۔ | مجھے امید ہے کے اب کراچی کو استعمال کے طور پر نہیں دیکھا جائے۔ | U:NOUN R:ADP R:SPELL |
ہم آج کے دور میں ایک ایسے کراچی میں رہتے ہیں جو ایک بڑا اتجادتں شہر ہے اور پاکستاں کا سب سے بڑ اور زیادہ جدید شہر کی شکل ہے۔ | ہم آج کے دور میں ایک ایسے کراچی میں رہتے ہیں جو ایک بڑا شہر ہے اور پاکستاں کا سب سے بڑا اور زیادہ جدید ہے۔ | M:ADJ R:ADJ M:NOUN M:ADP M:NOUN R:SPELL |
اس خط میں جو کراچی کی تہذیب عمارتی اور علاقائی نقشہ، مذہبی اور سیاسی شکل کا تجزیہ کھینچا گیا ہے۔ وہ آج بھی موجود ہے پر اس سیاسی شکل کا تجزیہ کھینچا گیا ہے۔ وہ آج بھی موجود ہے پر اس میں ایک تیز رفتار اور ضروریات کے مطابق بڑی عمارتوں کا اضافہ کر لیا گیا ہے۔ | اس خط میں جو کراچی کی تہذیب عمارتی اور علاقائی نقشہ، مذہبی اور سیاسی شکل کا تجزیہ کھینچا گیا ہے، وہ آج بھی موجود ہے پر اس میں ایک تیز رفتار اور ضروریات کے مطابق بڑی عمارتوں کا اضافہ کر لیا گیا ہے۔ | M:ADJ M:NOUN M:ADP M:NOUN M:VERB M:AUX M:AUX M:PUNCT M:PRON M:NOUN M:PART M:ADJ M:AUX M:ADP M:DET R:PUNCT |
پر ہر وقت ایک نیا افسر اپنے منفرد خیال سے تبدیلی کرتا رہا اب یہ ایک بے ترتیب اور مشکلات بھرا شہر بن چکا ہے۔ | پر ہر وقت ایک نیا افسر اپنے منفرد خیال سے تبدیلی کرتا رہا اور اب یہ ایک بے ترتیب اور مشکلات بھرا شہر بن چکا ہے۔ | U:CCONJ |
مغرب کا اثر نہیں گرا ہے ذندگی کی انتخاب میں۔ | مغرب کا اثر نہیں گرا ہے زندگی کے انتخاب میں۔ | R:NOUN R:ADP:INFL |
یہ واقعات بھی عام ہے۔ | یہ واقعات بھی عام ہیں۔ | R:AUX:INFL |
This is the Gold Test Set for Urdu Grammatical Error Correction (GEC), serving as a high-quality human benchmark. It consists of 1,613 high-quality parallel pairs.
Unlike the synthetic data, these errors are naturally occurring, sourced from Urdu exam papers of students (Grade 8 and above) and Urdu grammar workbooks. All pairs were manually filtered and verified by expert linguists to ensure they violate grammatical rules and are not merely stylistic or orthographic (spelling) edits.
incorrect_sentence: The original sentence written by a student/learner containing errors.correct_sentence: The expert-corrected version.errant_style_edit_tags: ERRANT-style tags defining the specific grammatical edits.For now, the paper is available in reviewed format on openreview.net. Upon acceptance, we will update the citation with the final version.